About Me

کون بنے گا نیا وزیر اعلیٰ؟ وزیر اعلی بلوچستان کی تبدیلی مقابلے کی میدان سجنے والی ہے

 




کون بنے گا نیا وزیر اعلیٰ؟ وزیر اعلی بلوچستان کی تبدیلی  مقابلے کی میدان سجنے والی ہے

وزیر اعلی بلوچستان جام میر کمال خان نے بلا آخر اسمبلی میں عدم اعتماد کے  ووٹ تک عہدہ نہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا جام کمال نے جس انداز میں بلوچستان اپوزیشن پارٹیز عدم اعتماد کی تحریک جمع کرنے کے بعد  اور باپ پارٹی کے اندرونی اختلافات میں اپنی اقتدار کے دنوں میں اضافہ کر دیا اسمیں اسکی سیاسی پختگی اور حوصلے کی داد دینی پڑے گی ان مہلت کے دنوں جام کمال ظاہر ہے ہاتھ باندھ کر نہیں بیھٹا ھوگا بلکہ اسلام آباد سے لے کر کوئٹہ کے اراکین اسمبلی کے گھروں تک کے یاترا کیا وہ سیاسی کھلاڑی تو ہے اسمیں شک نہیں سیاست بھی فٹبال کی طرح کافی محنت سے دوڑ دھوپ زخم دینے اور لینے والی گیم ہے یہاں اقتدار آپ کے ساتھ ھو بھی مخالفین اسکے چھینے کے پیھچے رہتے ہیں اگر نہ بھی ھو تب بھی آپ اسکے پیچھے  ہی لگے رہتے ہیں آپ نے بار دوڑنا  ہی دوڑنا ہے مخالفین کے گول پر سبقت لے جانے اور ٹرائی پر ٹرائی کرینگے  جس کا ڈفینس نظام مضبوط ھوگا اور لنک فارڈو  اچھی کھیل کھیلتے ھونگے وہ گول اسکور کرنے میں کامیاب ھوگا وزارت اعلی کی گیند جام صاحب کے ساتھ ہے دیکھتے ہیں گول اسکور کرینگے یا بال چھین لیا جائے گا ان سے ویسے جام صاحب  بھی اقتدار کے کھیلوں سے بچپن  سے واقف ہیں ایک طرف بلوچستان کے وہ سیاسی کھلاڑی ہیں جو ریفری  کے ساتھ لنک ھو کر کھیلا کرتے ہیں  ایک طرف جام صاحب ہیں کہ پسند کی ریفری گراونڈ میں لاکر کھیل کا آغاز لیتے ہیں کچھ ایسا ہی ھوا ہے بلوچستان میں اقتدار کے سیاسی کھیل کے میدانوں میں آتے ہیں جام صاحب کی مہلت کے 15 دنوں پر اسمیں کافی گہری راز چھپی ھوگی یہ تحریک عدم اعتماد کی ٹورنامنٹ کے اختتام پر ہی کھل سکتے ہیں ریفری کی تبدیلی کا اثر شاہد کھیل پر اثر انداز ھو گا لائن مینوں نے تو دو بار  جام صاحب کے گول پوسٹ پر مخالف ٹیم کی آف سائیڈ پکڑی  اور گول ھونے سے پہلے پہلے سیٹھی  بجتی رہی  پارٹی گیند  سے لے کر کپتان شپ کی جنگ اس وقت تک جام کمال نے تو اچھی طرح سنبھال لی ہے لیکن مخالف ٹیم کے کپتان بھی ہار ماننے کو ظاہری طور پر تیار نہیں اس سیاسی میچ کے دوران بڑے چنگے کھلاڑی ریڈ کارڈ ھو سکتے ہیں خود جام صاحب کی پوزیشن کیا ھوگا  کہ وہ  کھیل کے دوران فول کر کے ریڈ کارڈ ھونگے یا آخری وقت تک اپنے ٹیم کی دفاع اور مضبوط ھونے کے لئے گول اسکور کرنے میں کامیاب ھونگے اپوزیشن کا کردار ایک حامی ٹیم کی سی ہے جو گراونڈ کے باہر عوام کو اکسانے  اور کھلاڑیوں کو حوصلہ دینے تک ہے یہ بھی بتا دوں یہ میچ عوام کے لئے کافی بوریت کا سبب بن رہی ہے عوام چاہتے تھے کہ سیھٹی  بجے اور گیم کا اختتام ھو مگر دونوں ٹیموں کو ایکسٹرا ٹائم مل چکا ہے دیکھتے ہیں اگر گیم برابر ھو گا تو پینلٹی کیک سے فیصلہ ھونا ہے اس دوران گولکیپر کافی اہم کردار ادا کرتے ہیں جو ٹیم جذباتی ھو گا شکست وہی کھائے گی اس ایکسٹرا ٹائم میں دونوں ٹیموں نے بال نیچے رکھ کر کھیلا ہے کسی بھی ٹیم نے کک لگانے کی کوشش نہیں کی بال زمین پر رگڑتی ھوئی  ادھر ادھر جا رہی  ہے لیکن بات ضروری ہے کہ اس سیاسی  کھیل میں  قدوس بزنجو ٹیم  جیت  جائے یا جام صاحب کی ٹیم اپنی اعزاز برقرار رکھے لیکن اس کھیل کو فائنل گیم کوئی نہ سمجھے۔

Post a Comment

0 Comments